کفایت شعار
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - جزرس، کم خرچ کرنے والا، بچت کرنے والا۔ "اب ہمیں ہر لڑکی . سگھڑ، امور خانہ داری میں ماہر اور کفایت شعار معلوم ہوتی ہے۔" ( ١٩٤٨ء، پرواز، ١٦٦ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم 'کفایت' کے ساتھ عربی اسم 'شعار' ملنے سے مرکب بنا۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٩٠٤ء کو "مقالاتِ شبلی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - جزرس، کم خرچ کرنے والا، بچت کرنے والا۔ "اب ہمیں ہر لڑکی . سگھڑ، امور خانہ داری میں ماہر اور کفایت شعار معلوم ہوتی ہے۔" ( ١٩٤٨ء، پرواز، ١٦٦ )